If You are Parents, Read it and Know Yourself

ہمارے ہاں ایک عام رجحان یہ ہے کہ اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا تجزیہ کرنے کی بجائے ان کا دفاع کیا جاتا ہے اور خود کو معصوم اور بے گناہ ثابت کرنے کے لئے ایڑھی چوٹی کا زور لگا دیا جاتا ہے۔ اور انتہائی محنت اور عرق ریزی کے ساتھ اس ہونے والے نقصان کی ذمہ داری بلکہ الزام دوسروں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ حالانکہ حالات کا تنقیدی جائزہ لے کر اور اس کے بعد حالات کے سدھار کی کوشش سے بگڑے معاملات کو صحیح کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حال ہی میں ایک ایسا کیس سامنے آیا ہے جو ہمارے معاشرے کے لئے Eye opener ہے۔ 17 سال کا لڑکا ماں باپ کی زندگی کے لئے خطرے کا نشان بن چکا ہے۔ والدین رات کو اس ڈر سے سو نہیں سکتے کہ کہیں بیٹا سوتے میں انکے سر میں کوئی چیز نہ مار دے۔ بیٹا دن میں کئی بار یہ دھمکی دیتا ہے کہ اگر اسے کار نہ لے کردی گئی تو وہ سب گھر والوں کو مار ڈالے گا۔ میٹرک میں فیل ہو سارا دن گھر پڑا یہ بیٹا انڈین اور انگلش چینلز پر لگی فلمیں دیکھتا اور خود کو ہیرو یا ولن سمجھ کر اپنے گھر والوں کو گالی گلوچ، بہن بھایئوں کی مار پیٹ اور ماں کو دھمکیاں فراہم کرتا ہے۔
اب ذرا اس واقعے کا پس منظر
یہ بچہ جب پیدا ہوا تو اس سے بڑی ایک بہن تھی۔ جوائنٹ فیملے سسٹم میں ہونے کی وجہ سے ماں کو دونوں بچے سمبھالنے میں کوئی مشکل نہیں ہوئی۔ جب یہ تین سال کا ہوا تو اسکا بھائی پیدا ہوا۔ نومولود کے آنے سے جو تھوڑا بہت وقت بچے کو مل رہا تھا وہ اس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا۔ نومولود بھائی کو اپنا دشمن سمجھ کر بچے نے سب سے چوری چھپے چھوٹے بھائی کو حسب توفیق مارنا شروع کر دیا۔  نتیجتا اسے دادا دادی، چچیوں، تائیوں، پھوپھیوں کے حوالے کر دیا گیا۔ اور یوں نظر انداز کرنے کی رسم کا باقاعدہ آغاز ہوا۔
سکول جانے کا وقت آیا تو بچے کو اسکی غصیلی طبیعت کی وجہ سے سکول کی بجائے مدرسے میں حفظ کرنے ڈال دیا گیا۔ جہاں اسکو دین سکھا کر انسان بنانے کی کوششوں کا آغاز ہوا۔ (گستاخی معاف۔ مدرسوں میں ہمارے ہاں قاری اور حفاظ حضرات جن متشدد، ظالمانہ، اور بسا اوقات غیر انسانی طریقوں سے بچوں کو ٹریٹ کرتے ہیں، اس سے بچوں کے مذہب کاتو پتہ نہیں، البتہ وہ ذہنی مریض ضرور ہو جاتے ہیں)۔ ایسا ہی اس بچے کے ساتھ بھی ہوا۔ وہ مدرسے کے ہوسٹل سے چوری بھاگ نکلا۔ قاری اور حفاظ کے ڈسپلن کے تمام جھنڈے وہیں لہراتے رہ گئے۔
بات ابھی یہیں ختم نہیں ہوئی۔
چند مہیںے راتوں کو ڈر ڈر کر اٹھنے کے بعدجب یہ diagnose ہوا کہ “کسے نے کش کیتا اے” تو دور دور سے دم والے بابے بلوائے گئے۔ بابے کے حضور بچے کی اب تک کی تمام نافرمانیاں اور مذہب سے دوری جیسی قبیح حرکات دہرائی گئیں۔ بابوں کی ان با برکت مجالس میں  خاندان اوربرادری کے لوگ بھی شامل ہوتے تھے۔ جو بابوں کی ہمنوایئ میں  “بندہ بن جا ۔۔۔ورنہ” کا راگ مسلسل الاپتے رہے۔
اللہ اللہ کر کے بابوں کی کرنی سے بچہ اس قابل ہوا کہ اسکو سکول داخل کروایا جائے۔ لیکن سکول گھر سے اتنے فاصلے پر ہو کہ بچہ بھاگ کر گھر نہ آسکے۔ چنانچہ بچے کو لاہور سے اٹھا کر ایبٹ آباد کے سکول بھیج دیا گیا۔ جس کا پہلا نتیجہ یہ نکلا کہ بچہ ایک سال میں ہی فیل ہو کر واپس گھر ٓآ گیا۔ اس بار بس میں بیٹھ کر۔
Nightmares کی وجہ سے پھر انہی بابوں کی خدمات لی گئیں اور افاقہ ہونے کے بعد اسے ماں کے سکول میں ہی داخل کروا دیا گیا۔ جی ہاں ماں ایک سکول ٹیچر ہے۔ جس کی نیند کی گہرائی کا شادی کے 25 سال بعد یہ عالم ہے کہ کوڑے والا، کام والی دروازہ بجا بجا کر واپس چلے جاتے ہیں، تو  دور جوانی میں بحر نیند کس قدر عمیق اور گہرا ہوگا یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں۔  اس نیند کے دوران بچوں کی کتنی ہی ضروریات حسرت بن گئیں اس کا حساب کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں۔ یا تو ماں کی نیند پوری ہوتی ہے یا بچوں کے مستقبل بنتے ہیں!
تھوڑے ہی عرصے میں بچے کے کارہائے نمایاں پہلے ٹیچرز اور اس کے بعد بچوں تک پہنچنا شروع ہوئے اور وہ دن آ پہنچا جب بچے نے سکول بھجینے کی صورت میں گھر سے بھاگ جانے کی دھمکی دے دی۔ ماں نے ہاتھ کھڑے کر دئے کہ میں اس کو نہیں سمبھال سکتی۔ نتیجتا اسکو باپ کے پاس دوسرے شہر بھیج دیا گیا جہاں اسکی اعلی تعلیم پھر سے شروع ہوئی۔ لیکن تمام تر اخراجات اور چونچلوں کے بعد باپ نے تیسری دفعہ میٹرک کروانے سے انکار کر دیا۔
وہ دن اور آج کا دن۔ بچہ ایک دھاڑ کے ساتھ اپنے دن کا آغاز کرتا ہے۔ باپ سے گاہے بگاہے مار کھانے کے بعد ماں اور بہن پر چیختا چلاتا ہے اور ہر روز ایک نئی فرمائیش کرتا ہے جس کو پورا نہ کرنے کی صورت میں سب گھر والوں کو سوتے میں مار ڈالنے کی دھمکی دیتا ہے ۔ گھر والے باری باری جاگتے ہیں۔ بابوں کی خدمات اور نذر نیاز میں تیزی آ گئی ہے۔ وظیفوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ تہجد گذاریوں میں رقت بڑھ گئی ہے۔ صدقہ خیرات بھی بڑی سپیڈ سے جاری ہے ۔ لیکن یہ جو “کسے نے کش کیتا اے”  اسکا حل کہیں مل کے نہیں دے رہا۔  بندہ پوچھے جے سارا کش کسے نے ہی کیتا اے تے فیر تسی کیہ کیتا اے؟
آئی فون، ٹیبلٹ، لیپ ٹاپ، 125 بائیک کے بعد اب کار کے مطالبے نے شدت پکڑ لی ہے اور دھمکی پھر وہی کہ سوتے میں سب کو مار ڈالوں گا۔ اوپر سے شادی کے مطالبے نے ماحول میں کرنٹ چھوڑ دیا ہے اور اس 440 وولٹ کی لہریں پوریں برادری تک گئی ہیں۔ دور دور سے بزرگ اور ہر عمر کے لوگ سمجھانے آرہے ہیں۔ والدین کے حقوق کی آئت طشری میں رکھ کر پیش کی جاتی ہے لیکن اولاد کے حقوق پر جو احکامات اور سنت مطہرہ میں جو کچھ موجود ہے اس پر بات کرنے کی قطعا ضرورت نہیں سمجھی جاتی۔ بچے کا موازنہ جن قابل اور ہونہار بچوں کے ساتھ کیا جاتا ہے ان کے والدین کے طریق کار اور تربیت کے انداز کی طرف نہیں دیکھا جاتا۔
نفسیتی الجھنیں کسی کے ساتھ بھی ہو سکتی ہیں۔ بچوں کے تمام مسائل کے ذمہ دار والدین ہیں۔ خاس طور پر ماں۔ بچے کا زیادہہ وقت ماں کے ساتھ گزرتا ہے۔ ماں اپنی کوتاہیوں کو جواز فراہم کر کے اپنا سارا وقت فیشن، سہیلیوں کے ساتھ گپ شپ، میکے والوں کی خدمت، یا سسرالیوں کے خلاف سازشوں میں گذار دے تو بچوں کی زنگی ہی نہیں آخرت بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ سہیلیوں کے ساتھ گھنٹہ پیکیج، میکہ، سسرال، فیشن سب ایک دن ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔
آپکا بچہ صرف آپکی اولاد ہی نہیں، خاندان، برادی، کمیونٹی کا نمائیندہ، قوم کا ایک فرد، اور امت کا  ایک ستارہ ہے۔ خدا کی امانت ہے، اس امانت کو ایک اچھا انسان اور اپنے لئے صدقہ جاریہ بنا کر اس دینا سے جائیے۔ دوسری صورت میں وہ نسل در نسل آپ کے لئے عذاب ہے۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ ہے۔ اور اگر آپ یہ نہیں کر سکتے تو اپنے بچوں کو ایدھی ہوم بھیج کر خود کشی فرما لیجیئے۔ یقین مانئے یہ آپ کا بہت بڑا احسان ہوگا۔ خاندان، برادری، محلے، قوم اور پوری امت پر۔

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *