میرا مسلم لیگی ووٹ

OLYMPUS DIGITAL CAMERA

مسلم لیگ سے مجھے محبت ان دنوں ہویؑ تھی جب اس کا پورا نام آل انڈیا مسلم لیگ تھا، جس نے کانگریس اور انگریز دونوں کو بیک وقت شکست دے کر دنیا کے نقشے پر ایک نیا ملک کھڑا کر دیا تھا، جہاں مجھے اپنی شناخت مسلمان اور پاکستانی ہونے کی حیثیت سے ملی۔ مجھے اس بات کی خوشی سب سے زیادہ تھی کہ اب میرے وجود کو کسی کے اشیاےؑ خوردونوش کو بھرشٹ کرنے کی گالی نہیں پڑے گی۔ اب مجھے قلی سے اوپر اور بہت اوپرکے سرکاری درجات اور نوکریوں تک پہنچنے سے کویؑ نہیں روکے گا۔ میں نے مسلم لیگ کو ووٹ دیا کہ یہ میری اور میری اگلی نسلوں کی بقا کا سوال تھا۔
 
لیکن میرا ووٹ بہت جلد سوالوں میں الجھ گیا جب مسلم لیگ کی تقسیم حروف تہجی کے خانوں میں ہونے لگی ۔ ن، ق، ج، اور پتہ نہیں کیا کیا؟ مسلم لیگ کے وارث اپنا اپنا حصہ لے کر بیٹھ گیےؑ اور ہر حصے نے عقل کل ہونے کا دعوی بھی کرڈالا۔
 
پچھے دس سالوں میں میرا مسلم لیگی ووٹ ایک ہی مسلم لیگی امیدوار کے ہاتھوں جس شاندار ترقی کا سامنا کر چکا اور کر رہا ہے، اس کی تفصیل ملاحظہ ہو:
ہسپتال کے نام پر ایک بوسیدہ عمارت کھڑی ہے جہاں قبل مسیح کے پڑھے ہوےؑ دو عدد داکٹر صاحبان سرکاری ڈیوٹی پر ہیں۔ پینا ڈول ایکسٹرا، ڈسپرین، فلیجل، اور چند ایک بنیادی ادویات کے علاوہ بلڈ پرہشراور دل کے امراض، ٹی بی، شوگر، نظر کے جملہ عوارض، گردوں کی بیماری، جگر کے مسایؑل، اور میٹرنٹی جیسے انتہایؑ بنیادی نوعیت کے مسایؑل کے لیےؑ کویؑ انتظام نہیں۔ کسی حادثے یا خدا نخوستہ اقدام قتل کی صورت میں زخمیوں کو بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال روانہ کر دیا جاتا ہے ۔ اس دو گھنٹوں کے سفر میں اللہ کی رضا ہی کام آتی ہے۔
ٹی بی کی شرح پورے پاکستان سے اس علاقے میں زیادہ ہے۔ صفایؑ کے ناقص انتظامات کا اندازہ اس سے لگا لیجیےؑ کہ ہر گھر کا اپنا ذاتی کچرے کا ڈھیر ہے
جو کسی بھی قریبی خالی پلاٹ یا کھلی جگہ پر موجود ہے۔
سیوریج نام کی کویؑ چیز اس علاقے میں دریافت نہیں ہو پایؑ ہر دور حکومت میں سیوریج کے نام پر گرانٹ آتی ضرور ہے لیکن پھر مسلم لیگی نمایؑدے کو
کویؑ ضروری کام اسلام آباد میں یاد آ جاتا ہے ا جو حکومت کے اپنی tenure ختم ہونے یا کیےؑ جانے تک ختم نہیں ہوتا۔
قومی اور صوبایؑ اسمبلی کے امیدوار کھڑے جس جماعت کی طرف سے بھی ہوں، جیتنے کے بعد مسلم لیگی ضرور ہو جاتے ہیں۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ منشور کیا ہے، سیاسی بصیرت کس چڑیا کا نام ہے، انتخابی وعدوں کا کیا ہو گا یا دوبارہ بھی انہی عوام کے پاس ووٹ مانگنے آنا ہے۔ سیدھا سیدھا فارمولا ہے بھایؑ۔ ببرادری کی بنیاد پر لوگوں میں پھوٹ ڈلواوؑ اور جیت کر اسلام آباد جا رہو۔
حکومت کے زیر سایہ چلنے اور پلنے والے تعلیمی ادارے کویؑ ایسے نامور افراد پیدا نہیں کر سکے جو اپنے پیشہ میں ماہر ہوں۔ دو چار کا استثنی تو نیچرل سلیکشن کے باعث ہو سکتا ہے۔
کویؑ قابل ذکر انڈسٹری اس علاقے میں نہیں۔ لوڈ شیڈنگ ۲۴ میں سے ۱۸ گھنٹے بھی ہو جاتی ہے۔ زیادہ بھی ہو جاےؑ کویؑ مضایقہ نہیں۔
ناشتے کے لیےؑ ڈبل روٹی وہاں میسر نہیں لیکن نشے کی ہر قسم دستیا ب ہے جس میں گندگی کے ڈھیر میں دبایؑ جانے والی دیسی شراب سے لے کر وہسکی اور بییؑر شامل ہے۔
 
 ٹکڑے  ٹکڑے میرے ہاتھ میں ، آپ ہی بتایےؑ میرا مسلم لیگی ووٹ اب کدھر جاےؑ؟
 

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *